Zarrar (2022) Movie Review | Zarrar Review | Faheem Taj
in

Zarrar (2022) Movie Review | Zarrar Review | Faheem Taj
0 (0)



Zarrar (2022) Movie Review | Zarrar Review | Faheem Taj
A secret agent named, Zarrar (Shaan) has gone rouge after his homeland, Pakistan has been plunged with corruption when he finds out that a secret international operation has plans to dismantle the Pakistani government and subsequently gain control of its Nuclear Weapons Programme. Aiming to end the seemingly endless cycle of threats, he gets help from a close friend, Colonel Mustajab (Baig). With time running out, Zarrar must act fast in terminating the greatest threat Pakistan has come up against since its inception.

Zarrar Review Hindi Urdu Spoiler free
Zarrar Movie Review Hindi Urdu Spoiler free
Zarrar 2022 Review Hindi Urdu Spoiler free

#zarrar

Zarrar
Zarrar Movie
Zarrar 2022
Zarrar Trailer
Zarrar Movie Trailer
Zarrar 2022 Trailer
Zarrar Review
Zarrar Movie Review
Zarrar 2022 Review
Zarrar full Movie
Zarrar full Movie Watch online
Zarrar Movie Hindi

Faheem Taj Reviews
Follow FT Review for more!
Youtube: www.youtube.com/ftreview
FACEBOOK: 👇
Email: [email protected]
Instagram:

Zarrar Review,Zarrar Movie Review,Zarrar 2022 Review,Zarrar,Zarrar Movie,Zarrar Trailer,Zarrar 2022,Zarrar Movie Trailer,Zarrar 2022 Trailer,Zarrar Full Movie,Zarrar Full Movie Watch Online,Zarrar Movie Hindi

Video Source & Full Credit

Our Score

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

GIPHY App Key not set. Please check settings

39 Comments

  1. نجی جائزہ ( private review)

    ہفتہ کے روز شان شاہد کی ضرار دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ شان انڈسٹری کا ایک بڑا نام ہے اور ریاض شاہد اور نیلو بیگم کے سپوت ہونے کی وجہ سے ان سے امیدیں بھی زیادہ ہونی چاہیے۔ میں نے ان کی پچھلی فلم ارتھ دیکھی تھی، اور مجھے وہ فلم متاثر کرنے میں ناکام رہی تھی۔ چونکہ اس فلم کو بھی شان نے لکھا ہے اور ہدایات بھی انہیں کی ہیں میں بہت کم توقعات لے کر سینما گھر پہنچا تھا ۔ چودہ سو روپے کے ٹکٹ اور ڈھائ گھنٹے کے بعد یہ فلم خدا خدا کر کے اپنے اختتام کو پہنچی۔

    میں شان کو ایک نئے genre پر فلم بنانے کی مبارکباد دیتا ہو لیکن اس کا کیا فائدہ اگر آپ کوئی تاثر چھوڑنے میں ناکام رہیں۔ آئے تفصیل سے کچھ بات کرتے ہیں۔

    کہانی، مکالمے اور منظر نامہ

    کہانی شاید اچھی تھی، لیکن میں یہ بات وثوق سے نہیں کہہ سکتا۔ اس لیے کہ فلم جس کا منظر نامہ واجبی سا ہو یا شائد اس سے بھی برا ہو، جسے بلا وجہ انگریزی میں فلمایا گیا ہو اور جس کی پس پردہ موسیقی آپ کو کسی بے ہنگم راک کنسرٹ کی یاد دلاتی ہو اس کے بارے میں آپ یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔

    فلم کا پہلا حصہ اکتا دینے کی حد تک واجبی سا تھا۔ میں اور میرے آس پاس بیٹھے لوگ بار بار اپنا فون دیکھ رہے تھے۔ فلم کا دوسرا حصہ قدرے بہتر تھا مگر پھر بھی بس واجبی سا۔ انگریزی مکالموں پر بھی میں داد نہیں دے سکتا۔ میں اس زمرے میں اس فلم کو پانچ میں سے جھجھکتے ہوے دو ستارے دوں گا ۔

    شان کو چاہئے کہ وہ کسی پروفیشنل رائٹر سے فلمیں، منظر نامہ اور مکالمے لکھوائے اور ہر فن مولا بننے کی کوشش نہ کرے۔

    اداکاری
    شان ایک منجھا ہوا اداکار ہے اور اس نے یہ کردار اپنے لیے ہی لکھا ہے۔ ہاں اس نے اچھی اداکاری کی ہے لیکن یہ کوئ انوکھی بات نہیں۔ اس فلم کو با آسانی اردو زبان میں بنایا جا سکتا تھا۔ کرن ملک کی اداکاری بھی تاثر سے بے بہرہ۔ مجھے ندیم بیگ صاحب کچھ گھٹے گھٹے سے لگے اور میں سمجھتا ہوں کہ ان کہ اداکاری اس فلم میں ان کے کیریر کی بہترین ادا کاری ہرگز نہیں اور یہ شائد ہدایت کار کا قصور ہے۔ باقی لوگوں نے وہ کچھ کیا جو وہ کرتے آئے ہیں۔
    میں اس زمرے میں اس فلم کو پانچ میں سے دو ستارے دوں گا۔

    موسیقی۔
    یہ ایک روایتی پاکستانی فلم نہیں مگر اس میں پھر بھی شاید چار گانے تھے۔ جن میں سے کوئ بھی یاد رکھنے کے قابل نہیں تھا۔ عابدہ پروین اور راحت فتح علی نے ان کو خوب گایا، مگر وہ کوئ تاثر چھوڑنے میں ناکام رہے۔ اب آتے ہیں اس فلم کی پس پردہ موسیقی کی طرف۔ پس پردہ موسیقی ہرگز ہرگز مکالموں پر ہاوی نہیں ہو سکتی۔ اس فلم میں شروع سے آخر تک انتہائی زور سے بجنے والی پس پردہ موسیقی نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔ ایک اچھا ہدایت کار اس کو ٹھیک کر سکتا تھا۔ میں اس زمرے میں اس فلم کو پانچ میں سے ایک ستارہ دوں گا۔

    ہدایات
    شان ایک اچھا اداکار ہے اور اسے اداکار ہی رہنا چاہیے۔ یہ فلم بہت کچھ ہو سکتی تھی مگر یہ کچھ بھی نہ ہو سکی۔ شان نے ارتھ کے بعد ایک بار پھر بے رنگ گرینی سی فلم بنائ ہے جس کا مکمل طور پر سر اور پیر نہیں۔ منظر نامہ خصوصا پہلے ہاف کا اکتا دینے کی حد تک بور تھا۔ کچھ جگہوں پر مکالمے اور ہونٹ مل نہیں رہے تھے۔ کار چیس سین بھی بس واجبی سا تھا اور پس پردہ موسیقی نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔شان ندیم سے بھی ٹھیک کام نہ لے سکے۔ میں اس زمرے میں اس فلم کو پانچ میں سے ایک ستارہ دوں گا۔

    اگر آپ شان کے فین ہیں، یا آپ پاکستانی فلموں کو سپورٹ کرنا چاہتے ہیں، یا آپ کو اپنے پیسے اور وقت برباد کرنے کا شوق ہے تو آپ یہ فلم ضرور دیکھیں۔ ورنہ کچھ اور کر لیں ۔ میں اس فلم کو پانچ میں سے 5۔1 ستارے دوں گا۔

Load more comments